12 اشعار

یاں اس گلی سا کب کوئی بستاں ہے دوسرا

Yaan is gali sa kab koi bustaan hai doosra

یاں اس گلی سا کب کوئی بستاں ہے دوسراہاں کچھ جو ہے تو روضۂ رضواں ہے دوسرا

ہر دم یہ دو عدو ہیں پئے جان ناتواںاک درد عشق ہے غم ہجراں ہے دوسرا

ہے طرفہ جان و دل کا دم اضطراب حالروکیں جو ایک کو تو گریزاں ہے دوسرا

آئینہ جب وہ دیکھے تو کہتی ہیں چتونیںسچ ہے کہ ہم سا کب کوئی انساں ہے دوسرا

وہ رک کے اٹھ چلا تو اسے کیونکہ روکئےاک دست ہے بہ دل بہ گریباں ہے دوسرا

اس گھر کے در پہ جب ہوئے ہم خاک تب کھلادروازہ آنے جانے کو اور یاں ہے دوسرا

کیا دل جگر کی اس کی گلی میں کہیں خبراک مر گیا اک آن کا مہماں ہے دوسرا

رہیے ہمارے دل میں کہ لائق تمہارے کبایسا مکاں بہ کشور دوراں ہے دوسرا

ٹک سنیو زمزمے مرے دل کے کہ باغ میںکب اس طرح کا مرغ خوش الحاں ہے دوسرا

ہے طرفہ قسمت اپنی کہ جس جا ہو ایک دوستواں دیکھیے تو جان کا خواہاں ہے دوسرا

یعنی نشست ٹھہری کل اس در پہ تھی سو ہائےدیکھا جو آج جا کے تو درباں ہے دوسرا

یکتا ہے دو جہان میں جرأتؔ علی کی ذاتایسا نہ کوئی یاں نہ کوئی واں ہے دوسرا

— جرات قلندر بخش