5 اشعار

ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو دل سوچتا ہے

Zara si aahat hoti hai to dil sochta hai

ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو دل سوچتا ہے

«ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو دل سوچتا ہے» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 30 سیکنڈ ہے۔

ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو دل سوچتا ہےکہیں یہ وہ تو نہیں ؟

چُھپ کے سینے میں کوئی جیسے صدا دیتا ہےشام سے پہلے دیا دل کا جلا دیتا ہے

ہے اسی کی یہ صدا ہے اسی کی یہ اداکہیں یہ وہ تو نہیں ؟

شکل پھرتی ہے نگاہوں میں وہی پیاری سیمیری نس نس میں مچلنے لگی چنگاری سی

چُھو گئی جسم مرا کس کے دامن کی ہواکہیں یہ وہ تو نہیں ؟

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں