17 اشعار

نذرانہ

Nazrāna

نذرانہ

«نذرانہ» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 46 سیکنڈ ہے۔

نذرانہتم پریشان نہ ہو، بابِ کرم وا نہ کرو

اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گااسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں

شبِ تاریک گزاروں گا، چلا جاؤں گاراستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری

کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیںکہتے ہیں حسن کی نظریں بھی حسیں ہوتی ہیں

میں بھی کچھ لایا ہوں، کیا لایا ہوں معلوم نہیںیوں تو جو کچھ تھا مرے پاس میں سب بیچ آیا

کہیں انعام ملا، اور کہیں قیمت بھی نہیںکچھ تمہارے لیے آنکھوں میں چھپا رکھا ہے

دیکھ لو اور نہ دیکھو تو شکایت بھی نہیںایک تو اتنی حسیں دوسرے یہ آرائش

جو نظر پڑتی ہے چہرے پہ ٹھہر جاتی ہےمسکرا دیتی ہو رسماً بھی اگر محفل میں

اک دھنک ٹوٹ کے سینوں میں بکھر جاتی ہےگرم بوسوں سے تراشا ہوا نازک پیکر

جس کی اک آنچ سے ہر روح پگھل جاتی ہےمیں نے سوچا ہے کہ سب سوچتے ہوں گے شاید

پیاس اس طرح بھی کیا سانچے میں ڈھل جاتی ہےکیا کمی ہے جو کرو گی مرا نذرانہ قبول

چاہنے والے بہت، چاہ کے افسانے بہتایک ہی رات سہی گرمیٔ ہنگامۂ عشق

ایک ہی رات میں جل مرتے ہیں پروانے بہتپھر بھی اک رات میں سو طرح کے موڑ آتے ہیں

کاش تم کو کبھی تنہائی کا احساس نہ ہوکاش ایسا نہ ہو گھیرے رہے دنیا تم کو

اور اس طرح کہ جس طرح کوئی پاس نہ ہوآج کی رات جو میری ہی طرح تنہا ہے

میں کسی طرح گزاروں گا چلا جاؤں گاتم پریشان نہ ہو، بابِ کرم وا نہ کرو

اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں