6 اشعار

لب لعل پہ مرتعش مرتعش سے

Lab-e-la'l pe murta'ish murta'ish se

لب لعل پہ مرتعش مرتعش سے

«لب لعل پہ مرتعش مرتعش سے» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

لب لعل پہ مرتعش مرتعش سےیہ کچھ سمٹی سمٹی سی ہونٹوں کی لالی

یہ کچھ بہکی بہکی سی سفاک نظریںیہ کچھ سہمی سہمی سی فرخندہ حالی

یہ کچھ الجھے الجھے پریشاں تخیلیہ کچھ بھٹکی بھٹکی سی روشن خیالی

یہ کچھ روٹھے روٹھے سے جذبات الفتنہ شوخی نہ عشوئے، نہ شیریں مقالی

مرے حسب وعدہ نہ آنے سے شائدہوئی حسرت و شوق کی پائمالی

نہ کر اب خدا را زیادہ پشیماںکہ آخر ہوں اک شاعر لاابالی

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں