13 اشعار

مکان

Makaan

مکان

«مکان» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

مکانآج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے

آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گیسب اٹھو،میں بھی اٹھوں،تم بھی اٹھو،تم بھی اٹھو

کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گییہ زمیں تب بھی نگل لینے پہ آمادہ تھی

پاؤں جب ٹوٹتی شاخوں سے اتارے ہم نےان مکانوں کو خبر ہے نہ مکینوں کو خبر

ان دنوں کی جو گھپاؤں میں گزارے ہم نےہاتھ ڈھلتے گئے سانچے میں تو تھکتے کیسے

نقش کے بعد نئے نقش نکھارے ہم نےکی یہ دیوار بلند ، اور بلند ، اور بلند

بام و در اور ، ذرا اور سنوارے ہم نےآندھیاں توڑ لیا کرتی تھیں شمعوں کی لویں

جڑ دئیے اس لئے بجلی کے ستارے ہم نےبن گیا قصر تو پہرے پہ کوئی بیٹھ گیا

سو رہے خاک پہ ہم شورش تعمیر لئےاپنی نس نس میں لئے محنت پیہم کی تھکن

بند آنکھوں میں اسی قصر کی تصویر لئےدن پگھلتا ہے اسی طرح سروں پر اب تک

رات آنکھوں میں کھٹکتی ہے سیہ تیر لئےآج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے

آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گیسب اٹھو،میں بھی اٹھوں،تم بھی اٹھو،تم بھی اٹھو

کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گی

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں