15 اشعار

چاند ٹوٹا پگھل گئے تارے

Chāñd ṭūṭā pighal ga.e tāre

چاند ٹوٹا پگھل گئے تارے

«چاند ٹوٹا پگھل گئے تارے» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

چاند ٹوٹا پگھل گئے تارےقطرہ قطرہ ٹپک رہی ہے رات

پلکیں آنکھوں پہ جھکتی آتی ہیںانکھڑیوں میں کھٹک رہی ہے رات

آج چھیڑو نہ کوئی افسانہآج کی رات ہم کو سونے دو

کھلتے جاتے ہیں سمٹے سکڑے جالگھلتے جاتے ہیں خون میں بادل

اپنے گلنار پنکھ پھیلائےآ رہے ہیں اسی طرف جنگل

گل کرو شمع، رکھ دو پیمانہآج کی رات ہم کو سونے دو

شام سے پہلے مر چکا تھا شہرکون دروازہ کھٹکھٹاتا ہے

اور اونچی کرو یہ دیواریںشور آنگن میں آیا جاتا ہے

کہہ دو ہے آج بند مے خانہآج کی رات ہم کو سونے دو

جسم ہی جسم ہیں، کفن ہی کفنبات سنتے نہ سر جھکاتے ہیں

امن کی خیر، کوتوال کی خیرمردے قبروں سے نکلے آتے ہیں

کوئی اپنا نہ کوئی بیگانہآج کی رات ہم کو سونے دو

کوئی کہتا تھا، ٹھیک کہتا تھاسرکشی بن گئی ہے سب کا شعار

قتل پر جن کو اعتراض نہ تھادفن ہونے کو کیوں نہیں تیار

ہوشمندی ہے آج سو جاناآج کی رات ہم کو سونے دو

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں