10 اشعار

جنوں میں جو کچھ میں کہہ رہا ہوں مقام حیرت کی گفتگو ہے

Junoon mein jo kuch main keh raha hoon maqam-e-hairat ki guftagu hai

جنوں میں جو کچھ میں کہہ رہا ہوں مقام حیرت کی گفتگو ہے

«جنوں میں جو کچھ میں کہہ رہا ہوں مقام حیرت کی گفتگو ہے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

جنوں میں جو کچھ میں کہہ رہا ہوں مقام حیرت کی گفتگو ہےخبر نہیں کس کو دیکھتا ہوں پتہ نہیں کون روبرو ہے

یہ خود بھی اک تفرقہ ہے کہنا جو تو ہے میں ہوں جو میں ہوں تو ہےترے سوا دوسرا نہیں ہے کہ تو ہی خود تیرے روبرو ہے

کھلی جو مجھ پر مری حقیقت تو سب اضافی تھی میری نسبتجب ان نگاہوں سے دیکھتا ہوں کہاں کا میں صرف تو ہی تو ہے

چمن کی ساری بہار تجھ سے گلوں کا سارا نکھار تجھ سےتری اداؤں کی فتنہ پرور کسی میں خو ہے کسی میں بو ہے

کسی نے دامن میں لے لیے ہیں ڈھلے ہوئے آنسوؤں کے موتیجو میری آنکھوں سے گر چکے ہیں ابھی تک ان کی یہ آبرو ہے

زمانہ کروٹ بدل رہا ہے نئی نئی چال چل رہا ہےسحر نہ ہو جائے زندگی کی اگر یہی شام آرزو ہے

وہ بخش دے مجھ کو یا نہ بخشے میں اس کا بندہ وہ میرا مولیٰمیں اس مسرت سے مطمئن ہوں کہ اس سے اک روز دو بہ دو ہے

ہمارا جی بار بار تم پر درود پڑھنے کو چاہتا ہےکہ رخ جو والشمس ہو بہو ہے تو زلف واللیل مو بہ مو ہے

تمہارے ہاتھوں پہ بک چکے ہیں تمہاری چوکھٹ پہ ٹک چکے ہیںتمہاری نسبت سے ہے یہ صاحب ہماری جو کچھ بھی آبرو ہے

بتاؤں کیا ہے یہ کیا تماشا فراق کیسا وصال کس کاجو ساتھ ہر دم ہے میرے کاملؔ اسی سے ملنے کی آرزو ہے

— کامل شطاری