9 اشعار

اپنے دل کا حال نہ کہنا کیسا لگتا ہے

Apne dil ka haal na kehna kaisa lagta hai

اپنے دل کا حال نہ کہنا کیسا لگتا ہےتم کو اپنا چپ چپ رہنا کیسا لگتا ہے

دکھ کی بوندیں کیا تم کو بھی کھاتی رہتی ہیںآہستہ آہستہ ڈھہنا کیسا لگتا ہے

درد بھری راتیں جس دم ہلکورے دیتی ہیںدریاؤں کے رخ پر بہنا کیسا لگتا ہے

میں تو اپنی دھن میں چکرایا سا پھرتا ہوںتم کو اپنی موج میں رہنا کیسا لگتا ہے

کیا تم بھی ساحل کی صورت کٹتے رہتے ہوپل پل غم کی لہریں سہنا کیسا لگتا ہے

کیا شامیں تم کو بھی شب بھر بے کل رکھتی ہیںتم سورج ہو تم کو لہنا کیسا لگتا ہے

کیا تم بھی گلیوں میں گھر کی وسعت پاتے ہوتم کو گھر سے باہر رہنا کیسا لگتا ہے

کم آہنگ سروں میں تم کیا گاتے رہتے ہوکچھ بھی نہ سننا کچھ بھی نہ کہنا کیسا لگتا ہے

درد تو سانسوں میں بستے ہیں کون دکھائے تمہیںپھولوں پر خوشبو کا گہنہ کیسا لگتا ہے

— خالد احمد