10 اشعار

ستم طراز تلک زخم آشنا بھی تو ہو

Sitam-taraz talak zakhm-ashna bhi to ho

ستم طراز تلک زخم آشنا بھی تو ہوافق افق شفق درد کی حنا بھی تو ہو

خلا بہ پا ہوں مگر دشت دشت خاک بہ سرکچھ اپنا آپ مٹانے کی انتہا بھی تو ہو

میں خاک بن کے فضا میں بکھر بکھر جاؤںکسی کے پاؤں تلے زینۂ صبا بھی تو ہو

ہوس کی برف بدن سے پگھل تو جائے مگرشرر شرر کوئی پیکر کبھی چھوا بھی تو ہو

نظر نظر میں ہزاروں سوال ہیں لیکنفلک سے کوئی مری سمت دیکھتا بھی تو ہو

نئی گھڑی نئے صحرا نئے افق لائیکسی طرح حق آشفتگی ادا بھی تو ہو

برہنگی مرا مذہب مرا سلوک بنےمگر بدن پہ کسی قدر کی ردا بھی تو ہو

مری وفاؤں کی گہرائیوں کا کھوج تو لےوہ بحر حسن کبھی ظرف زما بھی تو ہو

فقط بیان حقیقت نہیں ہے منزل حقجہت شناس وہ ہے جو جہت نما بھی تو ہو

ترے سوا بھی کسی کو کہوں ندیم مگرترے سوا کوئی شائستہ وفا بھی تو ہو

— خالد احمد