غزل 6 اشعار

عافیت کہتی ہے پھر ایک ستم گر کو بلائیں

Aafiyat kehti hai phir ek sitamgar ko bulayen

عافیت کہتی ہے پھر ایک ستم گر کو بلائیںریگ ساحل کی طرح اپنے سمندر کو بلائیں

جو نظر بھی نہیں آتا اسے دل میں رکھ لیںوہ جو باہر بھی نہیں ہے اسے اندر کو بلائیں

خار زاروں کا سفر ہے تو پریشانی کیاآنکھ کو بند کریں اور گل تر کو بلائیں

ہے جو اک عمر سے سمٹا ہوا پس منظر میںپیش منظر کے لئے پھر اسی منظر کو بلائیں

پھر افق کو ہے وہی چاند سا چہرہ مطلوباور ہوائیں بھی اسی زلف معنبر کو بلائیں

راستے بھٹکے ہوئے قدموں کو آوازیں دیںسیپیاں موج میں گھلتے ہوئے گوہر کو بلائیں

— خورشیدرضوی