غزل 6 اشعار

چادر ابر میں سورج کو چھپانے کے لیے

Chadar-e abr mein sooraj ko chhupane ke liye

چادر ابر میں سورج کو چھپانے کے لیےوہ پس پردہ بھی بیٹھے نظر آنے کے لیے

میں کئی بار خفا ہو کے چمن سے اٹھاپھر کوئی گل نکل آتا ہے بلانے کے لیے

دل کچھ ایسا تری مہکار میں ڈوبا ہوا تھابوئے گل آئی مجھے ہاتھ لگانے کے لیے

جانے اس جلوہ گۂ ہست میں آئے کیوں ہیںہم کہ خود اپنے لیے ہیں نہ زمانے کے لیے

ان کے دل میں ہے بہت درد نہاں کی دولتجن کے سینے پہ نہیں داغ دکھانے کے لیے

اسے ہر طور مرے دل کو لہو کرنا تھاموسم گل کو رکھا ایک بہانے کے لیے

— خورشیدرضوی