غزل 8 اشعار

ابروئے ابر سے کرتا ہے اشارہ مجھ کو

Abroo-e abr se karta hai ishara mujh ko

ابروئے ابر سے کرتا ہے اشارہ مجھ کوجھلک اس آنکھ کی دکھلا کے ستارہ مجھ کو

ہوں میں وہ شمع سر طاق جلا کر سر شامبھول جاتا ہے مرا انجمن آرا مجھ کو

رائیگاں وسعت ویراں میں یہ کھلتے ہوئے پھولان کو دیکھوں تو یہ دیتے ہیں سہارا مجھ کو

میری ہستی ہے فقط موج ہوا نقش حبابکوئی دم اور کریں آپ گوارا مجھ کو

دام پھیلاتی رہی سود و زیاں کی یہ بساطہاں مگر میرے جنوں نے نہیں ہارا مجھ کو

کچھ شب و روز و مہ و سال گزر کر مجھ پروقت نے تا بہ ابد خود پہ گزارا مجھ کو

موج بے تاب ہوں میں میرے عناصر ہیں کچھ اورچاہیے صحبت ساحل سے کنارا مجھ کو

رزق سے میرے مرے دل کو ہے رنجش خورشیدؔآسمانوں سے زمینوں پہ اتارا مجھ کو

— خورشیدرضوی