غزل 6 اشعار

آوارۂ غربت ہوں ٹھکانہ نہیں ملتا

Aawara-e-ghurbat hoon thikaana nahin milta

آوارۂ غربت ہوں ٹھکانہ نہیں ملتاناوک ہوں مجھے کوئی نشانہ نہیں ملتا

جن لوگوں میں رہتا ہوں میں ان میں سے نہیں ہوںہوں کون مجھے اپنا زمانہ نہیں ملتا

دیوار تو اس دور میں ملتی ہے بہ ہر گاملیکن تہ دیوار خزانہ نہیں ملتا

مدت سے ہے اشکوں کا تلاطم پس مژگاںرونے کے لئے کوئی بہانہ نہیں ملتا

مدت سے تمنا ہے کہ یہ بوجھ اتاریںمدت سے کوئی دوست پرانا نہیں ملتا

ہے رخش سبک سیر بہت عمر رواں کاگر جائے کوئی شے تو اٹھانا نہیں ملتا

— خورشیدرضوی