غزل 9 اشعار

بساط وقت پہ صدیوں کے فاصلے ہم لوگ

Bisaat-e-waqt pe sadiyon ke faasle hum log

بساط وقت پہ صدیوں کے فاصلے ہم لوگکنار شام و سحر میں کہاں ڈھلے ہم لوگ

نہ کارواں نہ مسافر مگر جرس نہ تھمینہ روشنی نہ حرارت مگر جلے ہم لوگ

مقام جن کا مؤرخ کے حافظے میں نہیںشکست و فتح کے مابین مرحلے ہم لوگ

نمود جسم کی شوریدہ خواہشیں دنیافشار روح کے نادیدہ ولولے ہم لوگ

نہ جانے کب کوئی کروٹ ہمیں جگا ڈالےزمیں کے بطن میں خوابیدہ زلزلے ہم لوگ

فساد کوہ کنی حیلہ ہائے پرویزیہزار رنگ کے کانٹوں میں آبلے ہم لوگ

امیر شہر کی موٹی سمجھ میں کیا آتےضمیر دہر کے نازک معاملے ہم لوگ

ہجوم سنگ اذیت میں سر جھکائے ہوئےرواں ہیں لے کے مشیت کے قافلے ہم لوگ

زباں بریدہ و بے دست و پا سہی لیکنضمیر کون و مکاں ہیں برے بھلے ہم لوگ

— خورشیدرضوی