غزل 7 اشعار

ملتا ہی نہیں درد کا پیکر کوئی مجھ سا

Milta hi nahin dard ka paikar koi mujh sa

ملتا ہی نہیں درد کا پیکر کوئی مجھ ساآئینے میں اک شخص ہے کمتر کوئی مجھ سا

ایمان بھی تنہا ہے مرا کفر بھی تنہامومن کوئی مجھ سا ہے نہ کافر کوئی مجھ سا

ہے کون جو اس ابر کے پردے میں رواں ہےدیوانہ ہے دیوانہ سراسر کوئی مجھ سا

کہسار کے دامن میں ملاتا ہے نہاں کونآواز سے آواز برابر کوئی مجھ سا

لینے نہیں دیتا کسی کروٹ مجھے آراماک شخص ہٹیلا مرے اندر کوئی مجھ سا

میں ٹوٹتا تارا ہوں نظر مجھ سے ملا لوپھر کاہے کو دیکھو گے مکرر کوئی مجھ سا

آئینہ ہوں اور چہرۂ خورشیدؔ پہ وا ہوںہوگا کہیں قسمت کا سکندر کوئی مجھ سا

— خورشیدرضوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں