غزل 5 اشعار

اب سے پہلے وہ مری ذات پہ طاری تو نہ تھا

Ab se pehle woh meri zaat pe taari to na tha

اب سے پہلے وہ مری ذات پہ طاری تو نہ تھادل میں رہتا تھا مگر خون میں جاری تو نہ تھا

نبض چلتی ہے تو قدموں کی صدا آتی ہےاس قدر زخم جدائی کبھی کاری تو نہ تھا

وہ تو بادل کا برسنا ہے عناصر کا اصولورنہ اشکوں کا نمک آنکھ پہ بھاری تو نہ تھا

دل میں کھلتے ہیں تری یاد کے اعجاز سے پھولاس میں کچھ شائبۂ باد بہاری تو نہ تھا

یہ بھی اندر کا کوئی روگ ہے ورنہ ہم کوعمر بھر حوصلۂ نالہ و زاری تو نہ تھا

— خورشیدرضوی