غزل 5 اشعار

یہ شہرت ہے کہ رسوائی مگر حد سے زیادہ ہے

Yeh shohrat hai ke ruswaai magar had se zyaada hai

یہ شہرت ہے کہ رسوائی مگر حد سے زیادہ ہےمیں خود اتنا نہیں سایہ مرے قد سے زیادہ ہے

مرے دل کی گرہ باتیں بنانے سے نہیں کھلتیکہ مجھ میں بستگی کچھ قفل ابجد سے زیادہ ہے

کسی کے پاس حرف دل نشیں باقی نہیں ورنہقبول اب بھی دلوں کی خاک میں رد سے زیادہ ہے

سویدا کو مرے نسبت بہت ہے سنگ اسود سےمگر نقش کف پائے محمد سے زیادہ ہے

یہ جان ناتواں میری یہ شوق بے اماں میراتوانائی کف سیلاب میں سد سے زیادہ ہے

— خورشیدرضوی