غزل 5 اشعار

اچانک رخ بدلتی جا رہی ہے

Achanak rukh badalti ja rahi hai

اچانک رخ بدلتی جا رہی ہےزمیں محور سے ٹلتی جا رہی ہے

ستارے سرخ ہوتے جا رہے ہیںہر اک تقدیر جلتی جا رہی ہے

نہ جانے یہ حیات ہرزہ پیماکہاں گرتی سنبھلتی جا رہی ہے

پرندے آشیانوں کو رواں ہیںمسلسل شام ڈھلتی جا رہی ہے

مرے بعد اب مری خاک لحد میںمری زنجیر گلتی جا رہی ہے

— خورشیدرضوی