غزل 7 اشعار

دن گزرتے رہے سانسوں میں تھکن آتی رہی

Din guzarte rahe saanson mein thakan aati rahi

دن گزرتے رہے سانسوں میں تھکن آتی رہیدل میں اڑ اڑ کے وہی گرد محن آتی رہی

تھک گئے عرصۂ احساس میں چلتے چلتےراہ میں حسرت کوتاہیٔ فن آتی رہی

بس دریچے سے لگے بیٹھے رہے اہل سفرسبزہ جلتا رہا اور یاد وطن آتی رہی

گلشن دہر میں کچھ بوئے وفا باقی ہےکہ خزاں میں بھی صبا سوئے چمن آتی رہی

پھول آنکھوں سے گزر کر تہ دل میں بھی کھلارت بھی بدلی تو وہی بوئے سمن آتی رہی

اہل دنیا زر و گوہر کی تمنا میں رہےاوس پڑتی رہی سورج کی کرن آتی رہی

ہم کبھی چاک گریباں تھے کبھی خاک بسرکر گزرتے رہے جو عشق میں بن آتی رہی

— خورشیدرضوی