نظم 10 اشعار

ایک اچانک موت کا نوحہ

Aik Achanak Maut Ka Noha

بظاہر یہ لگتا ہےاس ملگجی صبح کو سب سہاروں نے جیسے

اچانک ترا ساتھ چھوڑاسحر نے زمیں پر قدم جب رکھا

تو اچانک زمیں بے وفا ہو گئیابھرتا ہوا آفتاب

ایک ہی ناگہاں لغزش پا سے یوں لڑکھڑایاکہ مغرب کے پاتال میں منہ کے بل جا سمایا

اچانک فرشتے کفن سائباں کی طرح تان کرآسمانوں سے اترے

گلوں کی مہک کی جگہ دفعتاً بوئے کافور کی سرد مہری نے لے لیشجر کے بدن سے نئی کونپلوں کی بجائے خزاں پھوٹ نکلی

بظاہر یہ لگتا ہےلیکن بھلا حادثہ ایک دم کب ہوا ہے

بہت دن سے اس سر بمہر آتشیں راز کا گنگ فیتہخموشی سے جلتا چلا جا رہا تھا

فنا کے گرجتے ہوئے آبشاروں کے اوپر تنارسیوں کا یہ پل

ایک مدت سے گلتا جا رہا تھا

— خورشیدرضوی