نظم 8 اشعار

فیصلہ

Faisla

اب کے دیوار میں دروازہ رکھوں یا نہ رکھوںاجنبی پھر نہ کوئی درپئے آزار آ جائے

ایک دستک میں مری ساری فصیلیں ڈھا جائےاب کے دیوار میں دروازہ رکھوں یا نہ رکھوں

ایک اہرام نہ چن لوں صفت دود حریرکوئی آئے تو بس اک گنبد در بستہ ملے

راز سر بستہ ملےلاکھ سر پھوڑے صدا کوئی نہ مجھ تک پہنچے

قاصد موج ہوا کوئی نہ مجھ تک پہنچےاب کے دیوار میں دروازہ رکھوں یا نہ رکھوں

سارے اندیشے مگر ایک طرفایک طرف تیری امید

جانے کس وقت ادھر تیری سواری آ جائےاجنبی لاکھ کوئی میری فصیلیں ڈھا جائے

مجھ کو دیوار میں دروازہ لگانا ہوگا

— خورشیدرضوی