غزل 5 اشعار

بڑا عجیب سماں آج رات خواب میں تھا

Bara ajeeb samaan aaj raat khwaab mein tha

بڑا عجیب سماں آج رات خواب میں تھامیں ان کے پاس تھا سیارہ آفتاب میں تھا

صدف صدف جسے ڈھونڈ آئے ڈھونڈنے والےخدا کی شان وہ موتی کسی حباب میں تھا

ادھر سے دست و نگاہ و زباں تمام سوالادھر سے ایک سکوت گراں جواب میں تھا

ہوا میں ایک ادھورا فسانہ کہتا ہوایہ چاک چاک ورق جانے کس کتاب میں تھا

تمہاری بزم سے تنہا نہیں اٹھا خورشیدؔہجوم درد کا اک قافلہ رکاب میں تھا

— خورشیدرضوی