غزل 7 اشعار

کوئی سوال نہ کوئی جواب دل میں ہے

Koi sawaal na koi jawaab dil mein hai

کوئی سوال نہ کوئی جواب دل میں ہےبس ایک درد و الم کا سحاب دل میں ہے

جراحتیں جو لگیں تن پہ زیب تن کر لیںجو دل کے زخم تھے ان کا حساب دل میں ہے

اگر لہو ہے تو آنکھوں میں کیوں نہیں آتایہ موج خوں ہے کہ موج سراب دل میں ہے

مدام ظاہر و باطن میں یہ خلیج رہینگاہ غرق گنہ احتساب دل میں ہے

صحیفۂ الم روزگار ہاتھوں میںکھلی ہوئی ترے غم کی کتاب دل میں ہے

نظر کے سامنے اٹھیں گے روز حشر مگروہ دل میں دفن رہے گا جو خواب دل میں ہے

اگر جگر میں ہو سارے جہاں کا درد تو خیریہ کیا کہ سارے جہاں کا عذاب دل میں ہے

— خورشیدرضوی