غزل 5 اشعار

گرتے ہوئے بدن کا نگر چھوڑ جاؤں گا

Girte hue badan ka nagar chhor jaaun ga

گرتے ہوئے بدن کا نگر چھوڑ جاؤں گاگھبرا کے دستکوں سے یہ گھر چھوڑ جاؤں گا

میں عین زندگی ہوں ٹھہرنا نہیں مجھےسب منظروں کو مثل نظر چھوڑ جاؤں گا

خود خاک ہو کے گرد سفر میں رہوں گا اوران بستیوں میں ذوق سفر چھوڑ جاؤں گا

ہوگا نہ سوگوار مرے واسطے کوئیجلتا ہوا دیا ہوں سحر چھوڑ جاؤں گا

ہستی مری عدم ہی سہی صورت سحابؔمیں سیپیوں میں آب گہر چھوڑ جاؤں گا

— خورشیدرضوی