غزل 9 اشعار

بھریں نہ وقت کے ہاتھوں جراحتیں تیری

Bharen na waqt ke haathon jaraahatein teri

بھریں نہ وقت کے ہاتھوں جراحتیں تیریرکھیں سنبھال کے دل نے امانتیں تیری

چھپا کے تجھ سے کہاں اپنے روز و شب لے جاؤںجہان نور ترا اور ظلمتیں تیری

بچھڑ کے تجھ سے ملا عمر بھر کا سناٹابنا گئیں مجھے تنہا رفاقتیں تیری

تو ہے وہ فاتح عالم کہ ایک دنیا نےشکست کھا کے سراہی ہی ہمتیں تیری

ترے نقوش قدم سے بہار تھی ان کیہیں منتظر مرے دل کی مسافتیں تیری

کہاں ہے شام تمنا ملاحتوں کا وہ رنگکہاں ہیں صبح تصور صباحتیں تیری

دل حزیں تری چوکھٹ پہ عمر کون گنوائےکبھی سمجھ میں نہ آئیں ضرورتیں تیری

ازل سے شیشۂ گردوں میں ریت چلتی ہےکبھی شمار میں آئیں نہ ساعتیں تیری

تو میری شرکت ہستی کہیں قبول تو کرتمام رنج مرے سب مسرتیں تیری

— خورشیدرضوی