غزل 7 اشعار

سماں غروب کا دل میں رہا ابھرتے ہوئے

Samaan ghuroob ka dil mein raha ubharte hue

سماں غروب کا دل میں رہا ابھرتے ہوئےخیال خاک میں ملنے کا تھا سنورتے ہوئے

زمیں اداس ہے اور آسماں پہ خندہ کناںگزر رہے ہیں ستارے اداس کرتے ہوئے

بکھر گیا تو مجھے کوئی غم نہیں اس کاکہ راز مجھ پہ کئی وا ہوئے بکھرتے ہوئے

فسردہ اتنی ہے اس بار رہ گزار خیالخرام یار جھجکتا ہے گل کترتے ہوئے

مجھے بھی اپنا دل رفتہ یاد آتا ہےکبھی کبھی کسی بازار سے گزرتے ہوئے

زمانہ لب پہ یہ انگشت رکھ کے کہتا ہےکہ درد دل نہ کہو اور کہو تو ڈرتے ہوئے

لبوں سے نیم تبسم بھی اٹھ گیا خورشیدؔاداسیوں کا مداوا تلاش کرتے ہوئے

— خورشیدرضوی