غزل 7 اشعار

دل ہو تھکن سے چور سہارا کہیں نہ ہو

Dil ho thakan se choor sahaara kahin na ho

دل ہو تھکن سے چور سہارا کہیں نہ ہوبھٹکیں تو دور دور اشارہ کہیں نہ ہو

روے زمیں پہ ہو نہ شبوں کو کوئی چراغدست فلک پہ کوئی ستارہ کہیں نہ ہو

کھلتا نہ ہو کہ کس نے بلایا ہمیں یہاںبس انجمن ہو انجمن آرا کہیں نہ ہو

وسعت بھی ایک چیز ہے یہ بھی بری نہیںلیکن نہ اس قدر کہ کنارہ کہیں نہ ہو

چشمک سی برق کی ہے گزرتا ہوا خیالاک بار ہر کہیں ہو دوبارہ کہیں نہ ہو

اب تم کہیں ملو تو کریں مل کے اس کو یادجو وقت ہم نے ساتھ گزارا کہیں نہ ہو

خورشیدؔ میرے دل کو سنا اپنا درد دلتو نے اگر یہ بوجھ اتارا کہیں نہ ہو

— خورشیدرضوی