غزل 6 اشعار

کل میں انہی رستوں سے گزرا تو بہت رویا

Kal main inhi raston se guzra to bahut roya

کل میں انہی رستوں سے گزرا تو بہت رویاسوچی ہوئی باتوں کو سوچا تو بہت رویا

دل میرا ہر اک شے کو آئینہ سمجھتا ہےڈھلتے ہوئے سورج کو دیکھا تو بہت رویا

جو شخص نہ رویا تھا تپتی ہوئی راہوں میںدیوار کے سائے میں بیٹھا تو بہت رویا

آساں تو نہیں اپنی ہستی سے گزر جانااترا جو سمندر میں دریا تو بہت رویا

جس موج سے ابھرا تھا اس موج پہ کیا گزریصحرا میں وہ بادل کا ٹکڑا تو بہت رویا

ہم تیری طبیعت کو خورشیدؔ نہیں سمجھےپتھر نظر آتا تھا رویا تو بہت رویا

— خورشیدرضوی