غزل 5 اشعار

چار دن کو ہے یہاں شرط اقامت کیا کیا

Chaar din ko hai yahan shart-e iqamat kya kya

چار دن کو ہے یہاں شرط اقامت کیا کیافرصت زیست میں شامل ہے مصیبت کیا کیا

سرپھرے لوگ ہیں ہم اپنے جنوں کی رو میںسوچ لیتے ہیں دل زار کی قیمت کیا کیا

وہ تو کہئے کہ گزر کر خس و خاشاک ہوئےورنہ سنگین تھی حالات کی صورت کیا کیا

آج مشکل ہے بہت وعدۂ فردا پہ یقیںاور کل دوش پہ آئے گی ندامت کیا کیا

تم تو کیا ہو سر دیوار‌‌ زمانہ خورشیدؔرائیگاں ہو کے مٹا نقش فضیلت کیا کیا

— خورشیدرضوی