غزل 6 اشعار

شب غربت میں جو خوشبوئے وطن پاس آئی

Shab-e ghurbat mein jo khushboo-e watan paas aayi

شب غربت میں جو خوشبوئے وطن پاس آئیدیر تک سانس نہیں صرف تری باس آئی

جو نوشتوں میں متاع دو جہاں بٹتی تھیمیرے حصے میں یہی شدت احساس آئی

کوئی امید ہے مجھ کو نہ کوئی اندیشہآس آئی مرے دل میں نہ کبھی یاس آئی

جب کھلا سانس لیا ہے مہک اٹھا ہے مشامیہ مرے ہاتھ عجب دولت انفاس آئی

جب بھی آئی ہے کبھی اس نگہ ناز کی یادشیشۂ دل کے لیے صورت الماس آئی

تو اسی کلبۂ احزاں میں پڑا رہ خورشیدتجھ کو کب صحبت ابنائے زماں راس آئی

— خورشیدرضوی