غزل 6 اشعار

صبح سے چاک بھی ہو دامن شب ضد ہے اسے

Subh se chaak bhi ho daman-e shab zid hai use

صبح سے چاک بھی ہو دامن شب ضد ہے اسےعین ماتم میں سجے بزم طرب ضد ہے اسے

خود ہر اک بات سے واقف ہے مگر اوروں کوکچھ نہیں جاننے دیتا یہ عجب ضد ہے اسے

اس کو سب ایک ہے یوں درد و سکوں وصل و فراقہاں مگر میری تمنا کے سبب ضد ہے اسے

بات اپنوں کی پکڑ لے تو کہاں چھوڑتا ہےدرگزر غیر سے فرمائے تو کب ضد ہے اسے

سر اگر خم ہے تو محفوظ خم تیغ سے ہےاور اگر زیر سپر ہے تو غضب ضد ہے اسے

سن کے قاصد نے کہا میری دلیلیں خورشیدؔخیر پہلے جو نہیں بھی تھی تو اب ضد ہے اسے

— خورشیدرضوی