غزل 5 اشعار

در خزینۂ صد راز کھولتا ہے کوئی

Dar-e-khazeena-e-sad-raaz kholta hai koi

در خزینۂ صد راز کھولتا ہے کوئینہ جانے کون ہے وہ مجھ میں بولتا ہے کوئی

عجب کرید عجب بیکلی سی ہے جیسےمجھے مری رگ جاں تک ٹٹولتا ہے کوئی

ہجوم ہے مرے سینے میں ابر پاروں کاگہر بکھیرنے والا ہوں رولتا ہے کوئی

حیات و مرگ و طلوع و غروب ہے دنیاکہ پر سمیٹتا ہے کوئی تولتا ہے کوئی

ہوا کا لمس یہ بوندیں خنک خنک خورشیدؔمجھے تو آج فضاؤں میں گھولتا ہے کوئی

— خورشیدرضوی