غزل 9 اشعار

رہی ہے پردۂ الفت میں مصلحت کیا کیا

Rahi hai parda-e-ulfat mein maslahat kya kya

رہی ہے پردۂ الفت میں مصلحت کیا کیاعداوتوں میں ہوئی ہے مفاہمت کیا کیا

مرے عزیز وطن کی فضا نے بھر دی ہےمری سرشت کے اندر منافقت کیا کیا

کبھی اصول کی غیرت کبھی زیاں کا سوالدماغ و دل میں رہی ہے مشاورت کیا کیا

صدائے دل کو تہ دل میں قید کر کے رکھارہا ہے طوق گلو شوق عافیت کیا کیا

مہک تھمی جو لہو کی تو چونک کر ہم نےہوا سے پوچھی ہے زخموں کی خیریت کیا کیا

بہت عزیز ہیں آنکھوں کی پتلیاں لیکنملے ہیں دکھ بھی مجھے ان کی معرفت کیا کیا

بہت دنوں میں کل آئینہ سامنے پا کرہوئی ہے عمر گزشتہ کی تعزیت کیا کیا

اٹا ہوا بسر و چہرہ سیم و زر کا غبارملی ہے لاشۂ افکار کی دیت کیا کیا

نہاں ہے ترکش امکاں میں ناوک تقدیرمدام سر پہ ستارے ہیں ان گنت کیا کیا

— خورشیدرضوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں