غزل 8 اشعار

دل کو پیہم وہی اندوہ شماری کرنا

Dil ko paiham wohi andoh-shumaari karna

دل کو پیہم وہی اندوہ شماری کرناایک ساعت کو شب و روز پہ طاری کرنا

اب وہ آنکھیں نہیں ملتیں کہ جنہیں آتا تھاخاک سے دل جو اٹے ہوں انہیں جاری کرنا

موت کی ایک علامت ہے اگر دیکھا جائےروح کا چار عناصر پہ سواری کرنا

تو کہاں مرغ چمن فکر نشیمن میں پڑاکہ ترا کام تو تھا نالہ و زاری کرنا

ہوں میں وہ لالۂ صحرا کہ ہوا میرے سپرددشت میں پیروئ باد بہاری کرنا

اس سے پہلے کہ یہ سودا مرے سر میں نہ رہےدست قاتل کو عطا ضربت کاری کرنا

یہ جو ٹپکا ہے زباں پر سو کرم ہے یہ ترااب رگ و پے میں اسے جاری و ساری کرنا

بخشا لعل و جواہر سے سوا تاب سخنخاک کو انجم افلاک پہ بھاری کرنا

— خورشیدرضوی