غزل 7 اشعار

دیکھتا ہوں پھول اور کانٹے بہ ہر سو آج بھی

Dekhta hoon phool aur kaante ba-har-soo aaj bhi

دیکھتا ہوں پھول اور کانٹے بہ ہر سو آج بھییاد کرتا ہوں تری خوشبو تری خو آج بھی

جانے کیوں جلتی سلگتی شام کے ایوان میںپھیل جاتی ہے تری باتوں کی خوشبو آج بھی

زیست کے خستہ شکستہ گنبدوں میں گاہ گاہگونجتا ہے تیری آوازوں کا جادو آج بھی

زلف کب کی آتش ایام سے کمھلا گئیزلف کا سایہ نہیں ڈھلتا سر مو آج بھی

تو نے پانے ہاتھ میں جس پر لکھا تھا میرا ناموہ صنوبر لہلہاتا ہے لب جو آج بھی

وہ ترا پل بھر کو ملنا پھر بچھڑنے کے لئےدل کی مٹھی میں ہے اس لمحے کا جگنو آج بھی

مدتیں گزریں مگر اے دوست تیرے نام پرڈول جاتی ہے مرے دل کی ترازو آج بھی

— خورشیدرضوی