غزل 11 اشعار

لب سے دل کا دل سے لب کا رابطہ کوئی نہیں

Lab se dil ka dil se lab ka raabta koi nahin

لب سے دل کا دل سے لب کا رابطہ کوئی نہیںحسرتیں ہی حسرتیں ہیں مدعا کوئی نہیں

حرف غم ناپید ہے آنکھوں میں نم ناپید ہےدرد کا سیل رواں ہے راستا کوئی نہیں

اپنے من کا عکس ہے اپنی صدا کی بازگشتدوست دشمن آشنا نا آشنا کوئی نہیں

سب کے سب اپنے گریبانوں میں ہیں ڈوبے ہوئےگل سے گل تک رشتۂ موج صبا کوئی نہیں

حال زار ایسا کہ دیکھے سے ترس آنے لگےسنگ دل اتنے کہ ہونٹوں پر دعا کوئی نہیں

کیا کوئی راکب نہیں ہم میں سمند وقت کانقش پا سب ہیں تو کیا زنجیر پا کوئی نہیں

میں تو آئینہ ہوں سب کی شکل کا آئینہ داربزم میں لیکن مجھے پہچانتا کوئی نہیں

دل کے ڈوبے سے مٹی دست شناور کی سکتموج کی طغیانیوں سے ڈوبتا کوئی نہیں

آنکھ میچو گے تو کانوں سے گزر آئے گا حسنسیل کو دیوار و در سے واسطہ کوئی نہیں

عرش کی چاہت ہو یا پاتال کا شوق سفرابتدا کی دیر ہے پھر انتہا کوئی نہیں

کارواں خورشیدؔ جانے کس گپھا میں کھو گیاروشنی کیسی کہ صحرا میں صدا کوئی نہیں

— خورشیدرضوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں