غزل 7 اشعار

تیری نگاہ لطف بھی ناکام ہی نہ ہو

Teri nigaah-e-lutf bhi nakaam hi na ho

تیری نگاہ لطف بھی ناکام ہی نہ ہودل تو وہ زخم ہے جسے آرام ہی نہ ہو

چونکا ہوں نیم شب بھی یہی سوچ سوچ کروہ آفتاب اب بھی لب بام ہی نہ ہو

تم جس کو جانتے ہو فقط اپنی طبع خاصوہ رنج وہ فسردہ دلی عام ہی نہ ہو

آہستہ اس لرزتے ہوئے پل پہ رکھ قدمصدیوں کا انہدام ترے نام ہی نہ ہو

اے دل مفر تو کار جہاں سے نہیں مگراتنا تو کر کہ اس میں سبک گام ہی نہ ہو

دستک سی دے رہی ہے دریچے پہ باد صبحاے محو خواب سن کوئی پیغام ہی نہ ہو

خورشیدؔ تو نے کیسے نبھائیں یہ عزلتیںجیسے تجھے کسی سے کوئی کام ہی نہ ہو

— خورشیدرضوی