نظم 9 اشعار

ایک خواب

Ek khwab

ساتھ اگر تم ہو تو پھر ہمہنستے ہنستے چلتے چلتے

دور آکاش کی حد تک جائیںکالی کالی سی دلدل سے

تپتا تانبا پھوٹ رہا ہومکڑی کے جالے کا فیتہ

کاٹ کے ہم اس باغ میں جائیںجس میں کوئی کبھی نہ گیا ہو

کوکنار کے پھول کھلے ہوںبھونرے ان کو چوم رہے ہوں

پتھر سے پانی چلتا ہومیں پانی کا چلو بھر کر

جب ماروں چہرے پہ تمہارےپہلے تم کو سانس نہ آئے

اور پھر میرے ساتھ لپٹ کرایسے چھوٹے دھار ہنسی کی

جیسے چشمہ پھوٹ رہا ہو

— خورشیدرضوی