نظم 10 اشعار

ہوک

Hook

جب کتابوں کے نوشتوں سے پھسل کرمری درماندہ نگاہ

چار سو پھیلے ہوئے صفحۂ ایام پہ جا پڑتی ہےدل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے

ابھر آتے ہیں دکھتے ہوئے جاں کاہ سوالپھر اسی ہوک کے لہجے میں خدا بولتا ہے

زندگانی کی کڑی شرطیں ہیںیہ عبادت ہے تمہاری کہ مرے بخشے ہوئے دکھ جھیلو

ان پرندوں کا، بہائم کا تصوف دیکھوکیسے منقار شکستہ طائر

دانے دانے کو ترس جاتا ہے دانوں میں گھرامشت پر خاک میں ڈھل جاتی ہے رفتہ رفتہ

جان کھو دینے کے بے زار ارادے کے بغیرکسی شکوے کے بغیر''

اور یہ مجھ سے بڑا درس سمجھ میں نہیں آتا میریکس لیے اس کی مشیت نے کیا دکھ پیدا

سوچتا ہوں تو ڈھلک آتے ہیں اشکوں میں سوالہے مری سوچ مرے اپنے لیے ایک عذاب

اس پہ عائد ہی نہیں میرے سوالوں کا جواب

— خورشیدرضوی