نظم 6 اشعار

پہچان

Pehchan

کہیں تم ملو تومسائل کو الجھا ہوا چھوڑ کر ہم

علائق کی زنجیر کو توڑ کر ہمچلیں اور کنج چمن میں کہیں

سایۂ تاک میں بیٹھ کربھولے بسرے زمانوں کی باتیں کریں

اور اک دوسرے کے خد و خال میںاپنے کھوئے ہوئے نقش پہچان کر

محو حیرت رہیںاور نرگس کی صورت

وہیں جڑ پکڑ لیں

— خورشیدرضوی