نظم 7 اشعار

قرب قیامت

Qurb-e-qayamat

یہ چڑیا جو پنکھے سے ٹکرا گئی ہےاسے تو فقط آشیانہ بنانے کی دھن تھی

اسے وقت کی پیٹھ سے لاکھ دو لاکھ سالوں کے گرنے کا اندازہ کب تھااسے کیا خبر تھی

وہ سر سبز ایام مرجھا چکے ہیںوہ انساں سے پہلے کے شاداب جنگل

جہاں گھونسلوں اور اڑانوں کے مابیندھاتوں کی پراں فصلیں نہیں تھیں

عقابوں کے پر آج بھی سرسرائیںتو معصوم چڑیوں کے دل سہم جائیں

مگر ان کو معلوم کیا ہےکہ قرب قیامت کے آثار پیدا ہیں

بے جان لوہے کو پر لگ گئے ہیں

— خورشیدرضوی