غزل 7 اشعار

فصیل ذات گری قید سے رہا ہوئے ہم

Faseel-e-zaat giri qaid se riha hue hum

فصیل ذات گری قید سے رہا ہوئے ہمخیال غیر کی وسعت سے آشنا ہوئے ہم

حصار لفظ میں آتا نہ تھا ملال دروںزبان حال سے آخر کہیں ادا ہوئے ہم

نظر کریں وہ جو دل پر تو ہیں وہی کے وہیکبھی جو آئنہ دیکھیں تو کیا سے کیا ہوئے ہم

چمن میں کھینچ کے لائی تھی جستجو جن کیوہ نکہتیں نہیں باقی تو لو ہوا ہوئے ہم

یہ کس کا زہر جدائی لہو میں تیرتا ہےہمیں تو کچھ بھی نہیں یاد کب جدا ہوئے ہم

نہاں تھی سنگ میں آتش کہ جل کے خاک ہوئےنہ ابتدا بھی ہوئی تھی کہ انتہا ہوئے ہم

کہاں سے لائیے خود کو کہ خود کو دیکھ سکیںجب اپنے آپ سے گزرے تو رونما ہوئے ہم

— خورشیدرضوی