غزل 5 اشعار

غم و سرور زمانے پہ کارگر کیا ہے

Gham-o-suroor zamane pe kargar kya hai

غم و سرور زمانے پہ کارگر کیا ہےبہت بسے بہت اجڑے مگر اثر کیا ہے

میں چلتا جاتا ہوں تحلیل ہوتا جاتا ہوںکڑکتی دھوپ میں شبنم کا یہ سفر کیا ہے

زمین ہوں تو خزانے کہاں گئے میرےدرخت ہوں تو مری شاخ کا ثمر کیا ہے

ہزار آئنوں میں جیسے اک کرن محبوسنظر ہی کیا ہے مری نقطۂ نظر کیا ہے

وہ آگ ہے کہ جو اڑتا ہے جل کے گرتا ہےفضا کا روگ ہے تقصیر بال و پر کیا ہے

— خورشیدرضوی