غزل 5 اشعار

کچھ بھی تو نہیں حسرت و حیرت کے علاوہ

Kuchh bhi to nahin hasrat-o-hairat ke ilawa

کچھ بھی تو نہیں حسرت و حیرت کے علاوہآئینے کے اندر تری صورت کے علاوہ

جس پھول کو دیکھوں یہی لگتا ہے کہ اس میںاک رنج بھی رہتا ہے مسرت کے علاوہ

ہر جبر سے خاموش گزر آئے کہ افسوسسر بھی ہمیں درکار تھا عزت کے علاوہ

ہم نے بھی بہت غور کیا راز جہاں پرحکمت نہ کھلی کوئی مشیت کے علاوہ

جی چاہتا ہے پھر سے ملیں اور دلوں میںکچھ اور تعلق ہو محبت کے علاوہ

— خورشیدرضوی