غزل 9 اشعار

گفتگو ترک خامشی ہے فقط

Guftagu tark-e khaamoshi hai faqat

گفتگو ترک خامشی ہے فقطہم سفر ایک اجنبی ہے فقط

عہد رفتہ کے ولولوں کا نشاںاک مسلسل سی بیکلی ہے فقط

دیکھنا بھالنا گیا ترے ساتھآنکھ مدت سے سوچتی ہے فقط

ہر طرف اک اتھاہ سناٹاچاپ اپنی ہی گونجتی ہے فقط

ہر طرف بے پناہ تاریکیاپنی آنکھوں کی روشنی ہے فقط

اجنبیت کے یخ کدوں میں دوستخود کلامی پہ زندگی ہے فقط

ہم کہاں اور جواز شکوہ کہاںنالہ اظہار بے کسی ہے فقط

کر حفاظت متاع حیرت کیحاصل زندگی یہی ہے فقط

اب دماغ سخن بھی ہے کس کوعمر مدت سے کٹ رہی ہے فقط

— خورشیدرضوی