غزل 6 اشعار

ہے دھندلکے میں نہاں قریۂ جاں ضو میں نہیں

Hai dhundalke mein nihaan qarya-e-jaan zau mein nahin

ہے دھندلکے میں نہاں قریۂ جاں ضو میں نہیںساز مدھم ہے طبیعت بھی ابھی رو میں نہیں

بند آنکھوں سے جو مجھ کو نظر آتے ہیں وہ رنگڈوبتے دن میں نہیں پھٹتی ہوئی پو میں نہیں

دل ہے تدبیر سے فارغ کہ نتیجوں کی کلیداس کے فرمان میں ہے میری تگ و دو میں نہیں

روش باغ میں یہ کون خراماں ہے کہ آجوہ تب و تاب رخ مہر کے پرتو میں نہیں

اے سمندر کی ہوا دل کے سفینے سے نہ کھیلمیرے اندر کا جہاں تیری قلمرو میں نہیں

شمع بجھ کر بھی رہی شمع کہ اس کی پہچاناس کے کردار میں ہے جلتی ہوئی لو میں نہیں

— خورشیدرضوی