غزل 5 اشعار

سر اٹھائیں تو اسے تن سے جدا جانتے ہیں

Sar uthayen to use tan se juda jaante hain

سر اٹھائیں تو اسے تن سے جدا جانتے ہیںجرم کرتے ہوئے ہم اس کی سزا جانتے ہیں

کوئی پیرو ہے ہمارا نہ کوئی راہنماہم نہ پیری نہ مریدی کا مزا جانتے ہیں

خود کو ہی مانتے ہیں قافلہ سالار اپنادل کی دھڑکن کو ہی آواز درا جانتے ہیں

بیچ کھایا ہے بہت بردہ فروشوں نے ہمیںاس سے ڈرتے ہیں جسے راہنما جانتے ہیں

یہ طبیعت نہیں اپنی کہ گنیں عیب و صوابہم کسی کو بھی نہ اچھا نہ برا جانتے ہیں

— خورشیدرضوی