غزل 7 اشعار

جسم کی چوکھٹ پہ خم دل کی جبیں کر دی گئی

Jism ki chaukhat pe kham dil ki jabeen kar di gayi

جسم کی چوکھٹ پہ خم دل کی جبیں کر دی گئیآسماں کی چیز کیوں صرف زمیں کر دی گئی

میرے ہاتھوں کی لکیروں ہی میں خم رکھا گیامیری افتاد طبیعت ہی غمیں کر دی گئی

کل مری بے خواب آنکھوں کے مقابل رات بھرنقش تاروں میں وہ چشم سرمگیں کر دی گئی

خون رلواتی رہی گزرے زمانوں کی شبیہتھک گئیں آنکھیں تو غرق ساتگیں کر دی گئی

کھوٹ سونے کے تسلسل میں کہیں آئی ضروریوں عبث تو سعیٔ دل باطل نہیں کر دی گئی

تلخ کر لیتا ہوں ہر لذت کی شیرینی کو میںکیوں نگہ میری نگاہ پیش بیں کر دی گئی

نقش آخر دل سے اس روئے حسیں کا مٹ گیاختم آخر صحبت نام و نگیں کر دی گئی

— خورشیدرضوی