غزل 9 اشعار

پھر وہ گم گشتہ حوالے مجھے واپس کر دے

Phir woh gum-gashta hawaale mujhe waapas kar de

پھر وہ گم گشتہ حوالے مجھے واپس کر دےوہ شب و روز وہ رشتے مجھے واپس کر دے

آنکھ سے دل نے کہا رنگ جہاں شوق سے دیکھمیرے دیکھے ہوئے سپنے مجھے واپس کر دے

میں تجھے دوں تری پانی کی لکھی تحریریںتو وہ خوں ناب نوشتے مجھے واپس کر دے

میں شب و روز کا حاصل اسے لوٹا دوں گاوقت اگر میرے کھلونے مجھے واپس کر دے

مجھ سے لے لے صدف و گوہر و مرجاں کا حساباور وہ غرقاب سفینے مجھے واپس کر دے

نسخۂ مرہم اکسیر بتانے والےتو مرا زخم تو پہلے مجھے واپس کر دے

ہاتھ پر خاکۂ تقدیر بنانے والےیوں تہی دست نہ در سے مجھے واپس کر دے

آسماں صبح کے آثار سے پہلے پہلےمیری قسمت کے ستارے مجھے واپس کر دے

میں تری عمر گزشتہ کی صدا ہوں خورشیدؔاپنے ناکام ارادے مجھے واپس کر دے

— خورشیدرضوی