غزل 5 اشعار

کانٹوں سے بھرے بن میں رستے کی بنا ڈالی

Kaanton se bhare ban mein raste ki bina daali

کانٹوں سے بھرے بن میں رستے کی بنا ڈالیدے دے کے لہو طرح نقش کف پا ڈالی

بدلے میں دفینے کے قطرے ہیں پسینے کےکیوں دل کی گواہی پر دیوار گرا ڈالی

پھر آج فضاؤں کو مطلوب ہے خوں ریزیبادل کی زرہ پہنی شمشیر صبا ڈالی

دو حرف تسلی کے جس نے بھی کہے اس کوافسانہ سنا ڈالا تصویر دکھا ڈالی

دنیا رہی خوابیدہ خورشیدؔ نے شب بھر میںپچھم سے شفق لا کر پورب میں بچھا ڈالی

— خورشیدرضوی